ہفتہ 31 اکتوبر 2026 - 15:34
امام جعفر صادق علیہ السلام کی دینداری کے لبادے میں فریب کاری سے متعلق تنبیہ!

حوزہ / امام جعفر صادق علیہ السلام نے ایک فکرانگیز روایت میں منافقت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ان لوگوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو دین کو دنیاوی مفادات کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اس طرزِ عمل کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جسارت سے تعبیر کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بعض اوقات انسان خوش نما ظاہری انداز اور شیریں گفتار کے ذریعہ دین کو اپنے دنیاوی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے واضح تنبیہ کرتے ہوئے ایسے افراد کو نہ صرف گمراہ بلکہ پروردگار کے مقابلے میں جسارت کرنے والا قرار دیا ہے۔ یہ روایت اس حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے کہ بعض لوگوں کی ظاہری گفتگو اور ان کے باطنی ارادوں میں گہرا تضاد پایا جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں استادِ اخلاق مرحوم آیت اللہ مجتبیٰ تہرانی کے بیانات پیش خدمت ہیں:

امام جعفر صادق علیہ السلام کی دینداری کے لبادہ میں فریب کاری سے متعلق تنبیہ!

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «وَأَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَی مِنَ الْعَسَلِ» ’’ان کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہیں۔‘‘

آیت اللہ مجتبیٰ تہرانی اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے کس قدر خوب صورت تعبیر استعمال فرمائی ہے! جب یہ لوگ بات کرتے ہیں تو شہد سے بھی زیادہ شیریں گفتگو کرتے ہیں۔

«وَأَعْمَالُهُمُ الْبَاطِنَةُ أَنْتَنُ مِنَ الْجِیَفِ» ’’لیکن ان کے باطنی اعمال مردار سے بھی زیادہ بدبودار ہیں۔‘‘

یعنی ان کے دلوں میں جو کچھ چھپا ہوتا ہے، وہ انتہائی گندا اور متعفن ہوتا ہے۔ ان کی زبان پر کچھ اور ہوتا ہے، دل میں کچھ اور اور ان کے مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔

«أَفَبِی یَغْتَرُّونَ أَمْ إِیَّایَ یُخَادِعُونَ أَمْ عَلَیَّ یَجْتَرُونَ...» ’’کیا یہ میرے ہی سبب دھوکے میں پڑ گئے ہیں؟ کیا یہ مجھے دھوکا دینا چاہتے ہیں؟ یا میرے مقابلے میں جسارت کر رہے ہیں؟‘‘

آیت اللہ مجتبیٰ تہرانی وضاحت کرتے ہیں کہ گویا ایسے لوگ اپنے طرزِ عمل سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ وہ شاید (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کو بھی دھوکا دے سکتے ہیں، اس کے ساتھ چال بازی کر سکتے ہیں اور اس کے دین کو دنیاوی مفادات کے حصول کے لیے کھیل بنا سکتے ہیں۔

تیسری تعبیر یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جسارت کی ہے اور گویا اس کے ساتھ محاذ آرائی پر اتر آئے ہیں۔

ماخذ روایت: وسائل الشیعہ، جلد 15، صفحہ 357

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha